جاذب نظر شخصیت اور منہ کی صفائی

 یاد رکھنے کی  صرف پانچ باتیں

ڈاکٹر محمد یحیی ٰ نوری

ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی شخصیت جاذب نظر محسوس ہو۔

لوگ اس سے بات کرنے کی خواہش کریں۔

اور وہ جہاں بھی جائے محفل کی جان بن جائے۔

ایسا صرف اس وقت ممکن ہے جب انسان دوسروں  کے ساتھ تعلق پیدا کرے۔

تعلق پیدا کرنے کے لیے دوسروں سے گفتگو کرنی پڑتی ہے۔

اور گفتگو کے لیے دوسروں کے قریب جانا پڑتا ہے۔

ایسے میں بہت سے لوگ گھبرا جاتے ہیں۔

انہیں یہ خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کے دانت پیلے نہ محسوس ہو رہے ہوں!

انہیں یہ خوف ہوتاہے کہ کہیں ان کے منہ سے بو نہ آ رہی ہو!

یہ خوف اور یہ خدشہ انہیں لوگوں سے گھلنے ملنے نہیں دیتا۔

گفتگو نہیں کرنے دیتا۔۔

اس طرح  ان   کے منہ کی صحت و صفائی ان کے خوابوں کی تکمیل میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

منہ اور دانتوں کی صحت و صفائی سے متعلق صرف پانچ  باتیں ہیں، جنہیں یاد رکھ کر، اور ان پر عمل کر کے آپ  اپنے منہ اور دانتوں کی حفظان صحت کے بارے میں بے فکر ہو سکتے ہیں۔

بدبودار  اور نقصان دینے والی اشیاء سے پرہیز

تمباکو نوشی  چاہے وہ  سگریٹ ، شیشے یا حقے کی شکل میں دھوئیں کے ساتھ ہو یا  پان ، چھالیہ، گٹکا، نسوار وغیرہ کی شکل میں دھوئیں کے بغیر، نہ صرف منہ سے بدبو کا باعث ہوتی ہے بلکہ کینسر کا سبب بھی بنتی ہے۔

انہیں ترک کرنا چاہئے۔

بعض غذائیں  جیسے پیاز ، لہسن اور کچھ مصالحہ جات بھی انسان کے منہ سے بو کا باعث بنتے ہیں۔

بہتر ہے کہ ملنے ملانے کی کسی جگہ جانے سے پہلے ان کے استعمال سے پرہیز کیا جائے ، یا پھر انہیں استعمال کرنے کے بعد منہ اچھی طرح صاف کیا جائے اور خوشبو دار غذاؤں  جیسے سونف ، پودینہ ، دارچینی ، لونگ اور الائچی کا استعمال کیا جائے۔

مسواک کا استعمال

ہمارے دین نے منہ کی صفائی کو بڑی اہمیت دی ہے۔

مسواک کا بکثرت استعمال انسان کے منہ کو صاف رکھتا ہے اور اسے بو سے محفوظ رکھتا ہے۔

رسول اکرم  ﷺ   نہ صرف مسواک کا بکثرت استعمال فرماتے تھے بلکہ آپ ﷺ نے اس کی بے انتہا تاکید فرمائی۔

گھر میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے مسواک  سے اپنا منہ صاف فرماتے تھے۔

(صحیح مسلم-حدیث   253)

آپ ﷺ نے فرمایا کہ “اگر گر میری امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔”

(صحیح مسلم-حدیث 252)

3۔ دانتوں کے برش کا استعمال او ر اس کی دیکھ بھال:

دن میں کم سے کم دو دفعہ برش کرنا چاہیے، خاص طور پر   صبح ناشتے کے بعد اور رات سونے سے پہلے۔

برش  کم سے کم تین منٹ تک انتہائی اچھی طرح کرنا چاہیے۔

دانتوں کی ساری سطحوں کو اندر  ، باہر ، اوپر ، نیچے  اچھی طرح صاف کرنا چاہیے۔

 اگر ہو سکے تو ہر کھانے کے بعد، ورنہ میٹھاکھانے کے بعد تو ضرور برش کرنا چاہیے۔

برش کو تقریبا” ہر تین ماہ بعد تبدیل کر لینا چاہیے۔

 سکیلنگ ،  دانتوں کا معائنہ اور صفائی

ہر چھے ماہ بعد ڈینٹسٹ سے دانتوں کا معائنہ کروانا چاہیے۔ ساتھ ہی اگر وہ مشورہ دے تو  اپنے دانتوں کی صفائی  بھی کروانی چاہیے تاکہ دانت صاف ستھرے نظر آئیں اور ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رہیں۔

 سونے سے پہلے کی  احتیاط

سونے سے پہلے کھانے پینے کی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

 خاص طور سے  کوئی میٹھی چیز یا کولڈ ڈرنک وغیرہ ہرگز  استعمال نہیں کرنی  چاہیے۔

بہت سے بچے  میٹھا دودھ پی کر سوتے ہیں ۔

اس صورت میں  دود ھ کے بعد برش ضرور کرنا چاہیے۔

یہ صرف پانچ باتیں ہیں جن پر عمل کر کے آپ اپنے دانتوں اور منہ کی حفظان صحت کے حوالے سے عملی طور  بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

ایک جاذب نظر اور  اچھی شخصیت بن سکتے ہیں۔

ایک شاندار مستقبل کی جانب پیش قدمی کر سکتے ہیں۔

Share This