انسانی جسم کا مدافعتی نظام اور ویکسین

چوتھا حصہ

ڈاکٹرمحمد یحییٰ نوری

بے ضرر زندہ یا مردہ جراثیم اور  جراثیم   کے اجزاء کے استعمال کے  ذریعہ جسم میں مصنوعی طور پر مدافعت پیداکرنا فائدہ مند تو ہے مگر اکثر اس قسم کی ویکسین کی تیاری بہت زیادہ وقت لیتی ہے۔ خاص طور سے بے ضرر زندہ جراثیم کا ویکسین میں استعمال اس صورت میں خطرنا ک ثابت ہو سکتا ہے کہ اگر انسان کا مدافعتی نظام   کسی وجہ سے مکمل طور پر فعال نہ ہو،وہ جینیاتی طور پر کمزور مدافعتی نظام  کا حامل  ہو، اسے ایچ آئی وی   ایڈز کی بیماری ہو یا بعض  دواؤں کی وجہ سے اس کا مدافعتی نظام کمزور ہو۔ ان تمام صورتوں میں یہ جراثیم متحرک ہو کر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔مریض شدید بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے اور اس کی جان بھی جا سکتی ہے۔

  بہت سے  جراثیم اپنی ہئیت بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب ماحول انہیں اپنے خلاف محسوس ہوتا ہے تو ان میں ایسی  جینیاتی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو ان کی ساخت میں  ایسا بدلاؤ  پیدا کردیتی ہیں کہ ویکسین ان پر اثر انداز نہیں ہو پاتی  ۔ اس طرح بے انتہا وقت اور پیسہ لگا کر بنائی گئی ویکسین کا ان پر اثر  کم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتا ہے۔

سائنسدانوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ انہوں نے جراثیم کے جینیاتی مادے یعنی ڈی این اے اور آر این اے کو لے کر اس سے ویکسین بنانا شروع کر دی۔  اس ویکسین کی تیاری دوسری ویکسین کے مقابلے میں نسبتا” سادہ ہوتی ہے کیوں کہ ڈی این اے اور آر این اے کو ایک اچھی مائکروبیالوجی لیباٹری میں نہ صرف جراثیم سے کشید کر کے الگ کیا جا سکتا ہے بلکہ بہت سے ادارے انہیں  خود بھی تیار کر سکتے ہیں ۔

ڈی این اے یا آر این اے  اس کرہ ارض پر    حیات کی اساس ہیں ۔ یہ وائرس سمیت تمام قسم کی  حیات میں موجود ہوتے ہیں ۔یہ ایسے مالیکیول ہوتے ہیں جن کی مدد سے کوئی بھی خلیہ مختلف پروٹین بنا سکتا ہے۔ ڈی این اے سے پروٹین بنانے کی مشینری اور طریقہ کار تمام حیات میں  تقریبا” ایک ہی جیسا ہے۔

جسم کا دفاعی نظام اپنے اور غیر میں تفریق کر سکتا ہے۔ اگریہ  نظام  کسی پروٹین کو اپنا نہ سمجھے تو اس کے خلاف متحرک ہو کر  رد عمل پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس پروٹین کے خلاف دفاعی نظام میں ایک یاد داشت پیدا ہو جاتی ہے اور جب بھی وہ جراثیم جن سے یہ پروٹین تعلق رکھتا ہے ، جسم میں داخل ہوتے ہیں تو جسم  کا دفاعی نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ ایک شدید رد عمل پیدا ہوتا ہے اور جراثیم کا صفایا کر دیا جاتا ہے۔

ڈی این اے اور آر این اے ویکسین جدید ویکسین  ہوتی ہیں۔ جسم میں جن جراثیم کے  خلاف مدافعت پیدا کرنی ہوتی ہے ان کے پروٹین  کے مطابق ڈی این اے یا آر این اے مختلف طریقوں سے  انسان کے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔یہ ڈی این اے یا آر این اے جب انسانی خلیات میں داخل ہوتا ہے تو  انسانی خلیات   اس کے مطابق پروٹین بنانا شروع کر دیتے ہیں۔جسم کا مدافعتی نظام متحرک ہو جاتا ہے  ۔ یہ  ان پروٹین کو کیوں کہ غیر سمجھتا ہے تو ان کے خلاف رد عمل دینا شروع کردیتا ہے۔ پروٹین بنانے والے خلیات کو تباہ کر دیتا ہے اور ساتھ ہی ان پروٹین کے خلاف ایک یاد داشت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس عمل کے دوران جسم میں مختلف علامات پیدا ہو سکتی ہیں جن میں درد کی شکایت، بخار کی کیفیت اور  تھکن کا احساس وغیرہ شامل ہیں ۔

کووڈ 19  کے خلاف زیادہ تر ویکسین اسی طریقہ کار کے مطابق تیار کی گئی ہیں۔

 اس سلسلے کی اگلی تحریر میں  ہم کووڈ 19 سے متعلق مختلف ویکسین کے بارے میں جانیں گے۔

Share This