انسانی جسم کا مدافعتی نظام اور ویکسین

پہلا حصہ

ڈاکٹرمحمد یحییٰ نوری

انسانی جسم اپنی پیدائش سے موت کے کافی عرصے بعد  تک اربوں جراثیم   میں گھرا ہوا ہوتا ہے۔

یہ جراثیم جسم کے اوپر، اندر اور اس کے ارد گرد کے ماحول میں رہتے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر جراثیم بے ضرر ہوتے ہیں۔کئی قسم کے جراثیم خطرناک متعدی امراض پیدا کرتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مختلف انداز میں انسان کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

ان جراثیم کے درمیان رہ کر انسانی بقاء اور  ایک متوازن زندگی گزارنے کے لیے انسان کے جسم میں ایک  مدافعتی نظام موجود ہوتا ہے۔ یہ نظام جسم کے مختلف عناصر پر مشتمل ہوتا ہے۔۔

اس میں  کچھ پروٹین اور جسم کے سفید خلیات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں ۔

اس نظام کودو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

پہلا حصہ عمومی مدافعتی نظام ہے ۔اس میں انسان کی جلد، منہ ، آنتوں  اور جسم کی دیگر بعض سطحوں پر پائی جانے والی جھلی (میوکس میمبرین)، کچھ پروٹین  اور کچھ خلیات شامل ہیں۔ یہ ہر جرثومے کے خلاف ،چاہے وہ پہلی مرتبہ آیا ہو یا متعدد مرتبہ آ چکا ہو، اپنے انداز میں ایک ہی طرح کا

ردعمل دیتا ہے۔اس میں شامل خلیات   جسم میں داخل ہونے والے جراثیم کے خلاف مختلف انداز میں کام کرتے ہیں۔

کچھ خلیات انہیں کیمیائی مادّوں کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں ہم نیوٹروفل کہتے ہیں۔ کیمیائی مادّوں  کا استعمال کرنے والے دیگر سفید خلیات میں بیزوفل ،  ائوسینوفل  اور نیچرل کلر سیل بھی شامل ہیں۔

کچھ خلیات جراثیم کو  سالم ہی نگل جاتے ہیں ۔ ان خلیات کو میکروفیجز کہا جاتا ہے۔ میکروفیج ان جراثیم کو نگلنے کے بعد ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔ ان ٹکڑوں کو بعد میں خصوصی مدافعتی نظام کو جراثیم سے متعارف کرانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عمل اینٹی جین پریزینٹیشن کہلاتا ہے۔یعنی اینٹی جین پیش کرنے کا عمل۔ جسم کے مختلف حصوں میں الگ الگ قسم کے میکروفیج ہوتے ہیں اور ہر حصے کے حساب سے اپنا کام انجام دیتے ہیں۔

دوسرا نظام خصوصی مدافعتی نظام ہے۔یہ نظام کچھ خلیات پر مشتمل ہوتا ہے ۔ یہ خلیات سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ جسم میں داخل ہونے والے جراثیم کو یاد  رکھتے ہیں۔ اور ان کی دوبارہ آمد پر نسبتا” جلد اور زیادہ سخت رد عمل دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان  کا کا م جسم میں اپنے اور غیر خلیات کی پہچان، بیمار ، وائرس زدہ یا کینسر کے خلیات کی پہچان  بھی ہے۔ اگر یہ ایسے خلیات کو پہچان لیں تو  ان خلیات کو یہ مختلف طریقوں سے ختم کر دیتے ہیں۔    یہ نظام بنیادی طور پر دو قسم کے خلیات پر مشتمل ہے۔

بی خلیات  : یہ خلیات کچھ خاص قسم کے پروٹین بناتے ہیں جنہیں اینٹی باڈیز کہا جاتا ہے۔یہ پروٹین مختلف طریقوں سے جسم کی حفاظت کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ کسی جرثومے یا پھپھوند سے سامنا ہو جائے تو اسے یاد رکھ لیتے ہیں اور زندگی میں دوبارہ سامنا ہوتے ہی اس سے مقابلہ کرنے کے لئے تیزی سے اینٹی باڈیز بنانا شروع کر دیتے ہیں۔

ٹی خلیات: یہ خلیات بیمار، کینسر زدہ یا وائرس زدہ خلیات کو پہچان کر ان میں ایسے کیمیائی مادّے داخل کر دیتے ہیں جو ان کو فورا” ختم کر دیتے ہیں۔ پیوند کاری کے دوران لگائے گئے کسی دوسرے جسم کے اعضاء اور غلط قسم کے خون کے خلاف بھی یہ خلیات سرگرم ہو جاتے ہیں  اور انہیں ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جسم کے اس قدرتی مدافعتی نظام کی بنیادی تکنیک جراثیم سے مقابلہ کرنے کے بعد ان کو یاد رکھنے کی ہے۔جب جسم میں پہلی مرتبہ کوئی جرثومہ داخل ہوتا ہے تو جسم کا مدافعتی نظام اس کے خلا ف رد عمل دینا شروع کرتا ہے۔ مگر کیوں کہ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہوتا ہے تو جسم کو اچھا اور طاقتور رد عمل پیدا کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔اس رد عمل کو ہم پرائمری امیون رسپانس کہتے ہیں۔

جب وہی جراثیم دوبارہ جسم میں داخل ہوتے ہیں تو جسم کا مدافعتی نظام متحرک ہو جاتا ہے۔اس بار اسے رد عمل پیدا کرنے میں اتنا وقت نہیں لگتا اور وہ اکثر  جلد جراثیم کا صفایا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔اس دوسرے رد عمل کو ہم سیکنڈری امیون رسپانس کہتے ہیں۔

اگلے مضمون میں ہم اس مدافعتی نظام کے کام کرنے کے انداز کا جائزہ لیں گے۔۔

(جاری ہے)

Share This