ڈاکٹر حافظ فصیح احمد

 

وطنِ عزیز میں ہیپاٹائیٹس کے مریضوں کی تعداد میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔

 

ہر سال لاکھوں مریضوں میں ہیپاٹائیٹس کی تشخیص کی جا رہی ہے اور کل مریضوں کی تعداد کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔

 

اس بگڑتی ہوئی صورتحال کا بنیادی سبب عوام میں شعور و آگہی کی بےحد کمی ہے۔

 

جس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر کو بھی بری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

 

زیر نظر مضمون میں ہیپاٹائیٹس کی ایک خطرناک اور اہم قسم یعنی ہیپاٹائیٹس سی کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

 

ہیپاٹائیٹس سی: ایک خطرناک دائمی مرض

 

ہیپاٹائیٹس سی ایک متعدی اور دائمی مرض ہے جس میں جگر کے خلیوں میں سوزش آجانے کی وجہ سے جگر اپنا کام صحیح طرز پر جاری نہیں رکھ پاتا۔

 

اس کے نتیجے میں انسانی جسم میں بہت سی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

 

ہیپاٹائیٹس سی وائرس کہاں پایا جاتا ہے اور انسانی جسم تک کیسے پہنچتا ہے؟

 

ہیپاٹائیٹس سی کا سبب بننے والا وائرس ہیپاٹائیٹس سی وائرس کہلاتا ہے جو انسانی جسم کی رطوبتوں میں پایا جاتا ہے۔

 

جیسا کہ خون، جنسی رطوبتیں اور لعاب دہن وغیرہ۔

 

استعمال شدہ سرنجز کا دوبارہ استعمال، ہیپاٹائیٹس سی سے متاثرہ خون کی منتقلی، متاثرہ شخص کے ساتھ جنسی تعلق، ایک دوسرے کے ٹوٹھ برش یا ریزر وغیرہ کا استعمال، یہ سب ذرائع ہیپاٹائیٹس سی وائرس کو متاثرہ مریضوں سے صحت مند انسانوں میں منتقل کرسکتے ہیں۔

 

اس کے علاوہ یہ وائرس دورانِ حمل یا بوقت پیدائش متاثرہ ماں سے نومولود بچے میں داخل ہو سکتا ہے۔

 

مزید یہ کہ متاثرہ مریض کا خون نکالتے ہوئے اگر میڈیکل اسٹاف کو آلودہ سرنج کی سوئی چبھ جائے، تب بھی یہ وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔

 

ہیپاٹائیٹس سی وائرس کتنی اقسام کے انفیکشن کرواتا ہے؟

 

اگرچہ ہیپاٹائیٹس بی وائرس کی طرح ہیپاٹائیٹس سی وائرس سے ہونے والے انفیکشن کی بھی دو اقسام ہیں یعنی عارضی انفیکشن اور دائمی انفیکشن۔

 

تاہم ہیپاٹائیٹس سی کا عارضی انفیکشن اس حوالے سے مختلف ہے کہ مریض میں ابتدائی طور پر کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

 

جس کی وجہ سے اسی فیصد مریضوں میں ہیپاٹائیٹس سی کا عارضی انفیکشن بڑھتے بڑھتے دائمی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

 

چنانچہ مرض کی تشخیص ہونے تک جگر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔

 

ہیپاٹائیٹس سی کی کیا علامات ہوتی ہیں؟

 

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ ابتدائی طور پر ہیپاٹائیٹس سی کے مریض میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

 

تاہم دائمی انفیکشن ہوجانے کے بعد مریض میں سنگین علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

 

جیسا کہ پیٹ میں پانی بھر جانا، الٹی اور پاخانے میں خون آنا، مریض کا کومے یعنی مکمل بیہوشی میں چلے جانا وغیرہ۔

 

اس کے علاوہ یرقان کی علامات ظاہر ہونے کے ساتھ ساتھ جگر اور تلی بھی بڑھ جاتے ہیں۔

 

اگر موثر علاج نہ کروایا جائے تو جگر کے خلیے مر جاتے ہیں اور جگر سکڑ جاتا ہے جسے طبی اصطلاح میں سروسزکہتے ہیں۔

 

ہیپاٹائیٹس سی کی تشخیص کیسے ممکن ہے؟

 

ہیپاٹائیٹس سی وائرس کی انسانی جسم میں موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے خون کے کچھ ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔

 

ان ٹیسٹوں کے ذریعے وائرس کی فعال کیفیت کو جانچا جاتا ہے۔

 

اس کے علاوہ وائرس کے خلاف جسم کی قوت مدافعت کا بھی تعین کیا جاتا ہے۔

 

نیز مرض کی نوعیت معلوم کرنے کے لئے جگر کا الٹراساؤنڈ اور سی ٹی اسکین بھی کروائے جاتے ہیں۔

 

کیا ہیپاٹائیٹس سی کا علاج ممکن ہے؟

 

ہیپاٹائیٹس سی کے علاج کا دورانیہ چھ ماہ سے ایک سال تک ہوسکتا ہے۔

 

اس کے علاج کے لیے مختلف ادویات کو پابندی سے استعمال کرنا چاہیے۔

 

حالیہ ریسرچ کے مطابق ہیپاٹائیٹس سی کا کامیاب ترین علاج “ٹرپل تھراپی” کے ذریعے ممکن ہے۔

 

اس طریقہء علاج میں تین مختلف ادویات کو ہفتہ وار بنیادوں پر کئی ماہ تک لگاتار استعمال کیا جاتا ہے۔

 

علاج مکمل ہوجانے کے کئی ماہ بعد تک مریض کے خون میں وائرس کی موجودگی اور جسم کی قوت مدافعت کو پرکھا جاتا ہے تاکہ علاج کی کامیابی کا اندازہ لگایا جا سکے۔

 

تاہم ہیپاٹائیٹس بی کی طرح ہیپاٹائیٹس سی کا بھی کامل اور دیرپا علاج جگر کی پیوندکاری ہے۔

 

البتہ اس کے بعد بھی مرض دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔

 

 مزید بر آں جگر کی پیوندکاری دنیا کے بیشتر ممالک میں ممکن نہیں ہے۔

 

اس سے بچاؤ کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

 

دیگر متعدی امراض کی طرح ہیپاٹائیٹس سی سے بچاؤ کا مؤثر ترین طریقہ یہ ہے کہ اس کی منتقلی کو ناممکن بنایا جائے۔

 

اس کے لیے مندجہ ذیل ہدایات کی پابندی کرنا نہایت ضروری ہے۔

 

خون کی منتقلی سے قبل دیگر امراض کے علاوہ ہیپاٹائیٹس سی وائرس کی اسکریننگ یعنی جانچ پڑتال کی جائے۔

 

استعمال شدہ سرنجز کو فوراً تلف کردیا جائے تاکہ کوئی انہیں دوبارہ استعمال نہ کر سکے۔

 

ہیپاٹائیٹس سی کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے زوجین کے ٹیسٹ کروائے جائیں۔

 

اس کے علاوہ خواتین کا حاملہ ہونے سے قبل اور حمل کے دوران بھی ہیپاٹائیٹس سی کا ٹیسٹ کیا جائے اور بیماری کی تشخیص ہوجانے کی صورت میں ماں اور نومولود بچے دونوں کا ممکنہ علاج کیا جائے۔

 

بدقسمتی سے ہیپاٹائیٹس سی کی کوئی مؤثر ویکسین دستیاب نہیں ہے لہذا احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ہی اس سے بچا جا سکتا ہے۔

Share This