انسانی جسم کا مدافعتی نظام اور ویکسین

دوسرا  حصہ

ڈاکٹرمحمد یحییٰ نوری

انسانی جسم کے مدافعتی نظام کی تنظیم اس طرح کی ہے کہ وہ ہر مرحلے پر جراثیم سے نبرد آزما رہتا ہے۔ جلد اور   جسم کے مختلف حصوں پر موجود نم جھلّی ایک طبعی رکاوٹ کا کام کرتی ہے۔یہ جراثیم کو اپنے اوپر تو  قیام کرنے دیتی ہیں مگر انہیں اندر داخل ہونے سے روکتی ہیں ۔ ان کا یہ غیر مخصوص طرز عمل جراثیم کو جسم کے اندرونی حصوں میں داخل ہونے سے روک کر رکھتا ہے۔ ان پر موجود خون کے سفید خلیات ، اینٹی باڈیز اور مختلف پروٹین ان جراثیم کو اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرنے دیتے۔اس کے علاوہ ان پر معمول کے مطابق رہنے والے نسبتا” کم خطرنا ک جراثیم ، زیادہ خطرنا ک جراثیم کے قیام اور نشو نما میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔

جب کوئی جراثیم  اس پہلے مرحلے سے بچ بچا کر جسم کے داخلی راستوں سے  یا کسی زخم وغیرہ کے نتیجے میں اندر داخل ہوتے ہیں تو جسم کا مدافعتی نظام  چوکس ہو جاتا ہے۔ اس جگہ پر موجود خون کے سفید خلیات  کیمیائی مادے خارج کرنا شروع کر دیتے ہیں جو مزید دیگر اقسام کے سفید خلیات کو  حملے کی  اطلاع فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان جراثیم کے ہاتھوں تباہ ہونے والے جسم کے عام خلیات سے بھی کچھ ایسے کیمیائی مادّے خارج ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو جسم کے دیگر حصوں میں موجود مزید خلیات کو جسم میں ہونے والی مداخلت اور اس کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصان کی اطلاع دینا شروع کر دیتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی سفید خلیات بنانے والے اعضاء چوکس ہو جاتے ہیں اور اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔

اگر انفیکشن بیکٹیریا  کی وجہ سے ہو تو  عام طور پر جسم میں سب سے پہلے نیوٹروفل خلیات کی تعداد بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ خون کے ٹیسٹ کی رپورٹ میں بڑھتے نیوٹروفل جسم میں بڑھتے انفیکشن کو ظاہر کرتے ہیں۔  وائرل انفیکشن کی صورت میں عام طور سے جسم کا لمفوسائیٹ بنانے والا نظام چوکس ہو جاتا ہے اور ان کی تعداد بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔

سفید خلیات بڑی تیزی سے اس جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔ساتھ ہی بی خلیات ان جراثیم کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کرنے لگتے ہیں۔ یہ اینٹی باڈیز مختلف طریقوں سے جراثیم کے خاتمے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ اس گائیڈڈ میزائل کی طرح ہوتی ہیں جس کا نشانہ خطا نہیں ہوتا۔ٹی خلیات کیمیائی مادّوں کا اخراج شروع کر دیتے ہیں جو آنے والے جراثیم کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ساتھ ہی یہ جسم کے ان خلیات کو بھی ختم کر دیتے ہیں جن پر جراثیم کے حملے کا شبہ ہو۔ میکروفیج خلیات جراثیم اور وہاں مرنے والے خلیات کی لاشوں کو صاف کرنے کا کام کرتے ہیں ۔ساتھ ساتھ ہی یہ جسم کے مدافعتی نظام کو جراثیم کی پہچان کرانے کا کام بھی کر رہے ہوتے ہیں۔

متاثر ہ جگہ سوج جاتی ہے۔یہاں خون کی روانی بڑھ جاتی ہے۔اکثر ایسی صورت میں درد بھی محسوس ہو تا ہے۔ انفیکشن زیادہ ہو تو بخار بھی چڑھ جاتا ہے۔سفید خلیات اور حملہ آور جراثیم کے درمیان ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اس جنگ میں مرنے والے جراثیم ، سفید خلیات اور جسم کے متاثرہ حصے سے پیدا ہونے والا ملبہ “پیپ ” کی صور ت میں نظر آتا ہے۔

جیسے جیسے انفیکشن ختم ہوتا جاتا ہے حالات معمول پر آنے لگتے ہیں۔ سفید خلیات کی تعداد کم ہونے لگتی ہے۔ اور سوجن بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔ پیپ اگر باہر ہو تو اپنا راستہ بنا کر جسم سے خارج ہونے لگتی ہے۔ اندر ہو تو  یا تو خشک ہو جاتی ہے یا اس کو سرجری کے ذریعے نکالنا پڑتا ہے۔ زیادہ بڑے انفیکشن کی صورت میں اکثر ایک نالی ڈال دی جاتی ہے جس میں سے پیپ باہر نکلتی رہتی ہے۔

جسم کے اپنے مدافعتی نظام کی کوششوں اور اکثر اینٹی بایوٹک ادویات کی مدد سے  اکثر جسم سے انفیکشن ختم ہو جاتا ہے۔ مخصوص مدافعتی نظام کے تحت کام کرنے والے ٹی اور بی خلیات اس انفیکشن کو پیدا کرنے والے جراثیم کو اپنی یاد داشت میں محفوظ کر لیتے ہیں۔

اس کے بعد اب جب بھی یہ  جراثیم جسم میں داخل ہونگے ، انہیں نسبتا” سخت اور تیز  جوابی کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں اب جسم کا مدافعتی نظام انہیں پہچانتا ہے۔

اسی  بنے بنائے قدرتی نظام کو ہم ویکسین  کی صورت میں استعمال کرلیتے ہیں۔۔

کیسے؟

یہ پڑھیں گے ہم اگلے حصے میں۔

 

(جاری ہے)