ڈاکٹر محمد یحییٰ نوری

پیدل چلنا صحت کے لیے فائدہ مند ہے، یہ بات عرصہ دراز سے عام لوگوں کے علم میں ہے۔

 روزانہ کم سے کم تیس منٹ تیزرفتار سے پیدل چلنے سے انسان کی جمع کی ہوئی کیلوریز خرچ ہوتی ہیں، وزن کم ہوتا ہے، دل کے دورے اور فالج ہونے کے خطرات کم ہوتے ہیں اور ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے۔

اس کے علاوہ  ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس ، رگ پٹھوں کے کھنچاؤ اور اکڑن  سے نمٹنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ہڈیاں اور عضلات مضبوط ہوتے ہیں اور جسم کے  توازن میں بہتری آتی ہے۔

اگر یہ چہل قدمی چپلوں کے بغیر ہو تو اس کے اضافی فوائد ہیں، یہ بات کم لوگ جانتے ہیں۔ جدید سائنسی تحقیق  نے ننگے پیر چلنے  کے کئی فوائد کا مشاہدہ کیا ہے۔ اس پر مزید تحقیق جاری ہے ۔

ننگے قدم چلنا  جسم کو زمین سے رابطے میں لاتا ہے ۔ جسم کے اندر موجود اضافی الیکٹران زمین میں جذب ہو جاتے ہیں اور اس طرح جسم کو اپنے اندر برقی توازن برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس عمل کو ارتھنگ یا گرؤنڈنگ بھی کہتے ہیں۔

۔تحقیق کے دوران یہ مشاہدہ کیا گیا کہ   زمین کے ساتھ رابطہ جسم کے مدافعتی نظام کو فعال بنانے میں مددگار ہے۔ جسم کے مدافعتی نظام کی مختلف امراض سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہتر ہو جاتی ہے۔

۔زخم جلدی  اور بہت انداز میں مندمل ہوجاتے ہیں.

۔جسم میں مختلف فائدہ مند کیمائی عناصر کی مقدار بہتر ہوتی ہے۔

۔خون میں شکر کی مقدار میں کمی آتی ہے۔ خون کے بہاؤ میں بہتری آتی ہے۔

۔ ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے۔

۔نیند بہتر آتی ہے اور جسم  ترو تازہ محسوس ہوتا ہے اور  درد برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

ان سب فوائد کے ساتھ یہ بھی ضرور ی ہے کہ جس زمین پر آپ ننگے قدم چل رہے ہیں  وہ صاف ستھری ہو اور اس سے پیروں میں زخم آنے کا خطرہ نہ ہو۔

خاص طور سے ذیابیطس کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے پیروں کی صحت اور صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ ذیابیطس کے نتیجے میں اکثر پیروں کی نسیں کمزور پڑ جاتی ہیں، پیر میں زخم کی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا اور چھوٹا سا زخم بھی بڑے نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔یہاں تک کہ کبھی کبھی پیر کاٹنے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔

تو بغیر جوتوں کے چلیں ضرور، مگر احتیاط کے ساتھ، صاف ستھری زمین پر۔

Share This